حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،علی پور-کرناٹک/ ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے کرناٹک کے معروف قصبہ علی پور میں جنوب ہند علماء و خطباء کانفرنس کا عظیم الشان انعقاد عمل میں آیا، جس میں جنوبی ہند کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد علماء کرام، ائمہ جمعہ و جماعت اور خطباء نے شرکت کی۔ اس سال کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’رہبر شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی خدمات‘‘ تھا، جس کے تحت مقررین نے ان کی علمی، فکری، دینی، انقلابی، سیاسی اور سماجی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

یہ کانفرنس امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں توسل کے ساتھ، علی پور کے سرپرستِ اعلیٰ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد زکی باقری کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ اس کے انتظامی و علمی امور میں صدر البلاغ فاؤنڈیشن حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا دلاور حسین، معتمد مولانا مدبر حسین، ناظرِ شریعت مولانا سید اظہر حسین، مولانا علی باقر اور مولانا سید علی رضا سمیت دیگر علم نہاء نے اہم کردار ادا کیا۔
کانفرنس میں افریقہ میں مقیم حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد عباس عابدی، تنزانیہ میں مقیم مولانا سید عدیل رضا عابدی، مولانا شیخ عابد، ایران میں مقیم جنوب ہند کے نمائندہ مولانا سید نظر عباس، مدیر مدرسہ امام سجاد مولانا سید محمد عباس سجادی اور مدیر مدرسہ باقر العلوم علی پور مولانا سید اطہر علی تبریزی سمیت ممتاز علماء نے شرکت کی۔
اس موقع پر مولانا محمد زکی الباقری نے اپنے خطاب میں رہبر شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ کی دینی و انقلابی جدوجہد، استقامت، بصیرت اور قیادت کو اہلِ علم اور ذمہ دار افراد کے لیے نمونۂ عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی مقصد، ایمان اور استقامت کے ساتھ گزارنی چاہیے اور راہِ حق میں قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

مولانا سید محمد عباس عابدی، مولانا سید اظہر حسین، مولانا سید عدیل رضا عابدی، مولانا سید علی رضا، مولانا محمد علی، مولانا شیخ عابد اور مولانا علی باقر نے بھی اپنے خطابات میں رہبر شہید کی علمی، دینی، انقلابی اور عالمی خدمات کو اجاگر کیا۔ مقررین نے ان کی زندگی کو بصیرت، استقامت اور خدمتِ دین کا روشن نمونہ قرار دیتے ہوئے علماء و خطباء کو ان کے افکار اور جدوجہد سے درس حاصل کرنے کی دعوت دی۔ مولانا سید علی رضا نے اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیت، خود اعتمادی، ترقی اور عالمی کردار پر بھی گفتگو کی۔
ایران میں مقیم جنوب ہند کے نمائندہ مولانا سید نظر عباس نے اپنے خطاب میں ذمہ داری کو الٰہی امانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصب محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک ایسی امانت ہے جسے خدا کی رضا کے لیے ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر شہید کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو الٰہی امانت سمجھ کر ادا کرتا ہے تو اس کی خدمات کا دائرہ پوری دنیا تک پھیل سکتا ہے۔
کانفرنس میں 14 سے زائد علماء نے خطاب کیا۔ خطابات کے علاوہ علماء کے باہمی تبادلۂ خیال اور ان کے علمی، تبلیغی، تنظیمی اور سماجی مسائل و مشکلات کی سماعت کے لیے بھی نشست منعقد ہوئی۔ اس دوران مختلف علاقوں سے آئے ہوئے علماء نے اپنے مسائل پیش کیے، جنہیں ذمہ داران نے سنجیدگی سے سنا اور ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ علماء کے درمیان اتحاد، باہمی رابطوں اور تبلیغی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔

پروگرام کی نظامت البلاغ فاؤنڈیشن کے معتمد مولانا مدبر حسین نے انجام دی، جبکہ اختتام پر فاؤنڈیشن کے صدر مولانا دلاور حسین نے تمام علماء، مہمانان اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کے درمیان اتحاد، علمی و تبلیغی رابطوں اور باہمی تعاون کو فروغ دینا فاؤنڈیشن کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
آخر میں مولانا محمد زکی الباقری نے اختتامی دعا کرائی اور سورۂ والعصر کی تلاوت کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر البلاغ فاؤنڈیشن کی جانب سے شریک علماء و خطباء کو یادگاری تحائف بھی پیش کیے گئے۔










آپ کا تبصرہ